شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ

شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ


ایک تیری چاہت ھے
ایک میری چاہت ھے
اور ہو گا وہی
جو میری چاہت ھے
پس!!
اگر تو نے سپرد کر دیا
خود کو اس کے
جو میری چاہت ھے
تو میں بخش دوں گا
تجھے وہ بھی
جو تیری چاہت ھے
اور اگر تو نے نافرمانی کی اس کی
جو میری چاہت ھے
تو میں تھکا دوں گا تجھے اس میں
جو تیری چاہت ھے

................................................................................

تیری مہر کیا لگی ہے کہ کوئی ہنر نہ ہوتے
میری شاعری کا سقہ سر عام چل رہا ہے
کڑی دھوپ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غم
تیرے سایہ کرم میں یہ غلام چل رہا ہے  


HAZARVIPOETRY.BLOGSPOT.COM


...............................................................................





و مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں 

دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں 



اک جھلک آج دکھا گنبد خضری کے مکیں

کچھ بھی ہیں دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں



سر پہ رکھ دیجیے ذرا دست تسلی آقا 
غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں 

نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے 
تیری نسبت کے تقاضوں کو بھلائے ہوئے ہیں 

گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا 
غیر کے ساتھ رہ رسم بڑھائے ہوئے ہیں 

شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا 
یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئےہیں 

تری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ 
کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں 

کاش دیوانہ بنا لیں وہ ہمیں بھی اپنا 
ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں 

اللہ الله مدینے پہ یہ جلووں کی پھوار 
بارش نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں 

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھری ہو نصیر 
اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں 

.................................................................................................................................................................
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ



..................................................................
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ


...........................................................................

1 comment: